Pharwala Fort History The Lost Capital of the Gakhars
Explore Pharwala Fort History, the lost capital of the Gakhar Kingdom near Islamabad, featuring its battles, architecture, heritage, and legacy.

Pharwala Fort History The Lost Capital of the Gakhars
Quick Answer
| Question | Answer |
|---|---|
| What is Pharwala Fort? | Pharwala Fort is a historic fortress in Kahuta, Punjab, Pakistan. It served as the capital of the Gakhar Kingdom and played an important role in the region’s political and military history for centuries. |
Overview
Pharwala Fort History reflects one of Pakistan’s most remarkable yet overlooked historical stories. Located near Islamabad in Kahuta Tehsil, the fort was the capital of the powerful Gakhar Kingdom for centuries. Surrounded by mountains and the Soan River, it was built as a naturally protected fortress and later witnessed the rule of the Gakhars, the invasion of Babur, the Mughal period, Afghan conflicts, Sikh attacks, and finally its decline. Today, the remaining walls and gates continue to tell the story of a forgotten civilization and one of Pothohar’s greatest historical landmarks.
Introduction
Pharwala Fort History is one of the most fascinating chapters in Pakistan’s historical heritage. Hidden among the hills of Pothohar near Islamabad, this ancient fortress once served as the political and military center of the powerful Gakhar rulers. Although much of the fort now lies in ruins, its historical importance continues to attract researchers, historians, photographers, and heritage travelers.
The story of Pharwala Fort History is not limited to its massive walls or defensive architecture. It witnessed the arrival of Mughal Emperor Babur, the bravery of the Gakhars, battles against Afghan and Sikh forces, and centuries of political transformation in northern Punjab. Every remaining gate, wall, and pathway reflects the strategic significance of this forgotten fortress.
Today, Pharwala Fort History also draws attention because of its connection to the Gakhar royal family, from which renowned Pakistani singer Hadiqa Kiani traces her ancestry. This historical connection has introduced many people to the forgotten legacy of Pharwala Fort and renewed interest in preserving this remarkable heritage site.
Table of Contents
Pharwala Fort History The Lost Capital of the Gakhars
| Section | Details |
|---|---|
| Introduction | Overview of Pharwala Fort |
| Historical Importance | Why the fort mattered |
| Location | Where the fort is situated |
| Architecture | Defensive design and gates |
| Gakhar Kingdom | Rise and rule |
| Battles | Babur, Mughals, Sikhs |
| Visitor Information | Travel tips |
| Conclusion | Historical significance |
Historical Importance of Pharwala Fort
قلعہ پھروالہ صرف ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ پوٹھوہار کی کئی صدیوں پر محیط تاریخ کا زندہ گواہ ہے۔ Pharwala Fort History ہمیں ایک ایسی ریاست سے روشناس کرواتی ہے جس نے شمالی پنجاب میں طویل عرصے تک سیاسی، عسکری اور انتظامی مرکز کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ اس قلعے نے مختلف ادوار میں گکھڑ حکمرانوں، مغلوں، افغانوں اور سکھوں کے درمیان ہونے والی اہم تاریخی تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہ قلعہ اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ ایک طرف بلند پہاڑیاں اور دوسری جانب دریائے سواں نے اسے قدرتی طور پر محفوظ بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے دشمن کے لیے اس پر حملہ کرنا آسان نہیں تھا۔ یہی دفاعی اہمیت Pharwala Fort History کو پاکستان کے اہم ترین تاریخی قلعوں میں شامل کرتی ہے۔
A Traveler’s Journey to the Forgotten Fort
مصنف کے سفر کے مطابق قلعہ پھروالہ تک پہنچنا آج بھی ایک مہم سے کم نہیں۔ سڑک ختم ہونے کے بعد پیدل ندی عبور کر کے قلعے تک پہنچنا پڑتا ہے، جبکہ مقامی آبادی کی موجودگی کی وجہ سے بعض حصوں تک رسائی محدود بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود بیرونی دیواریں، قدیم دروازے اور گہری خندقیں ماضی کی عظمت کا احساس دلاتی ہیں۔
قلعے کے اطراف موجود پرانی قبریں، دریا کا بہاؤ اور خاموش ماحول اس مقام کو مزید پراسرار بنا دیتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر اندازہ ہوتا ہے کہ Pharwala Fort History صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اس کے آثار تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
Location of Pharwala Fort
قلعہ پھروالہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں واقع ایک اہم تاریخی قلعہ ہے۔ Pharwala Fort History کے مطابق یہ قلعہ راولپنڈی سے تقریباً 27 کلومیٹر مشرق اور اسلام آباد ہائی وے سے تقریباً 17 کلومیٹر کے فاصلے پر لہتراڑ روڈ، چراہ گاؤں کے قریب واقع ہے۔ اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے یہ قدیم زمانے میں دفاعی اور تجارتی لحاظ سے نہایت اہم مقام سمجھا جاتا تھا۔
قلعہ ایک طرف بلند پہاڑی سلسلے اور دوسری جانب دریائے سواں کے درمیان واقع ہے، جس نے اسے قدرتی طور پر محفوظ بنایا۔ شاہراہِ ریشم اور کشمیر جانے والے قدیم راستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ قلعہ صدیوں تک فوجی، انتظامی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ آج بھی Pharwala Fort History پاکستان کے اہم تاریخی ورثوں میں شمار کی جاتی ہے۔
Pharwala Fort Location at a Glance
| Information | Details |
|---|---|
| Country | Pakistan |
| Province | Punjab |
| District | Rawalpindi |
| Tehsil | Kahuta |
| Nearby City | Islamabad |
| Distance from Rawalpindi | Approximately 27 km |
| Nearby River | Soan River |
| Historical Region | Pothohar Plateau |
The Origin of the Gakhar Kingdom
Pharwala Fort History کا سب سے اہم باب گکھڑ سلطنت سے وابستہ ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق گکھڑ قبیلہ پوٹھوہار کے قدیم اور طاقتور قبائل میں شمار ہوتا تھا، جنہوں نے کئی صدیوں تک اس خطے پر حکمرانی کی۔ مختلف تاریخی کتابوں میں ان کے نسب کے بارے میں الگ الگ روایات ملتی ہیں، تاہم اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ گکھڑ حکمران جنگی مہارت، بہادری اور سیاسی اثرورسوخ رکھتے تھے۔
قلعہ پھروالہ طویل عرصے تک گکھڑ سلطنت کا دارالحکومت رہا۔ اسی قلعے سے ریاستی امور چلائے جاتے تھے اور یہی مقام دفاعی منصوبہ بندی کا مرکز بھی تھا۔ Pharwala Fort History ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس سلطنت کی حدود کلر کہار سے آزاد کشمیر، جہلم، اٹک، ہزارہ اور کوہستان تک پھیلی ہوئی تھیں، جو اس کی سیاسی طاقت کا واضح ثبوت ہے۔
Why the Gakhar Kingdom Became Powerful
گکھڑ حکمرانوں کی طاقت صرف ان کی فوج تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کے زیرِ انتظام اہم تجارتی راستے بھی تھے۔ کشمیر، پنجاب اور شمالی علاقوں کو ملانے والے راستوں پر کنٹرول ہونے کی وجہ سے انہیں معاشی اور عسکری دونوں لحاظ سے برتری حاصل تھی۔
اسی مضبوط دفاعی نظام کی وجہ سے مغل، افغان اور دیگر حکمران بھی گکھڑوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر مجبور رہے۔ Pharwala Fort History اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ قلعہ پھروالہ صرف ایک فوجی مرکز نہیں بلکہ ایک مضبوط ریاستی دارالحکومت بھی تھا۔
Key Features of Pharwala Fort
قلعہ پھروالہ کی تعمیر اس دور کے بہترین دفاعی اصولوں کو سامنے رکھ کر کی گئی تھی۔ مضبوط دیواریں، بلند برج، گہرے دفاعی راستے اور قدرتی رکاوٹیں اس قلعے کو ناقابلِ تسخیر بناتی تھیں۔ کئی حصے آج بھی اس عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔
قلعے کی دیواریں تقریباً 28 سے 30 فٹ بلند اور 10 فٹ تک چوڑی تھیں، جبکہ تیر اندازوں کے لیے خصوصی دفاعی سوراخ بھی بنائے گئے تھے۔ یہی خصوصیات Pharwala Fort History کو پاکستان کے منفرد تاریخی قلعوں میں نمایاں مقام دیتی ہیں۔
Main Features of the Fort
- قدرتی دفاع کے لیے دریائے سواں اور پہاڑی سلسلے کا استعمال۔
- تقریباً 450 کنال پر محیط وسیع رقبہ۔
- مضبوط پتھریلی دیواریں۔
- چھ تاریخی دروازے۔
- قدیم مسجد کے آثار۔
- سلطان مقرب خان کا مقبرہ۔
- صدیوں پرانا برگد کا درخت۔
- تاریخی قبریں اور قدیم بیٹھک۔
- فوجی نگرانی کے لیے برج اور تیر اندازی کے مقامات۔
- شاہراہِ ریشم اور کشمیر کے قدیم راستوں کے قریب اہم محلِ وقوع۔
Babur and the Conquest of Pharwala Fort
Pharwala Fort History کا ایک اہم موڑ 1519ء میں آیا، جب مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے ہندوستان کی مہم کے دوران قلعہ پھروالہ کا رخ کیا۔ اس زمانے میں گکھڑ ریاست اندرونی اختلافات کا شکار تھی۔ تاتار خان اور ہاتھی خان کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے ریاست کو کمزور کر دیا، جس کا فائدہ بابر نے اٹھایا۔
تاریخی روایات کے مطابق تاتار خان کے قتل کے بعد اس کے داماد منوچہر نے بابر کو حالات سے آگاہ کیا۔ اسی دوران جنجوعہ سرداروں نے بھی ہاتھی خان کی شکایت کی کہ وہ مسافروں کو لوٹتا ہے۔ ان اطلاعات کے بعد بابر نے بھیرہ سے کوچ کیا اور قلعہ پھروالہ کا محاصرہ کر لیا۔ سخت مزاحمت کے باوجود ہاتھی خان قلعہ چھوڑ کر فرار ہو گیا اور 15 مارچ 1519ء کو بابر نے قلعے میں داخل ہو کر تاتار محل میں قیام کیا۔ Pharwala Fort History میں یہ واقعہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
Mughal–Gakhar Alliance
بعد ازاں ہاتھی خان نے بابر سے صلح کی درخواست کی، جسے قبول کر لیا گیا۔ بابر نے نہ صرف اسے معاف کیا بلکہ اسے “سلطان” کا لقب بھی دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مغلوں اور گکھڑ حکمرانوں کے درمیان مضبوط تعلقات کا آغاز ہوا۔
بعد میں پانی پت کی پہلی جنگ (1526ء) میں گکھڑ سپاہیوں نے مغل افواج کا ساتھ دیا۔ ان کی وفاداری کے صلے میں بابر نے پوٹھوہار کے کئی علاقوں کی حکمرانی دوبارہ گکھڑ خاندان کے سپرد کر دی۔ Pharwala Fort History اس اتحاد کو برصغیر کی تاریخ کے اہم سیاسی معاہدوں میں شمار کرتی ہے۔
The Six Historic Gates of Pharwala Fort
قلعہ پھروالہ اپنی مضبوط فصیلوں کے ساتھ ساتھ اپنے تاریخی دروازوں کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ ہر دروازہ فوجی، انتظامی یا دفاعی مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا اور قلعے کے مختلف حصوں تک رسائی فراہم کرتا تھا۔
ان دروازوں میں سے بعض آج بھی جزوی طور پر موجود ہیں، جبکہ کئی وقت گزرنے کے ساتھ تباہ ہو چکے ہیں۔ پھر بھی Pharwala Fort History میں ان دروازوں کا ذکر قلعے کی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
Six Main Gates of the Fort
- Lashkari Gate – مرکزی فوجی داخلہ۔
- Qila Gate – قلعے کا مرکزی داخلی راستہ۔
- Hathi Gate – ہاتھیوں اور شاہی قافلوں کی آمد و رفت کے لیے۔
- Bagh Gate – باغات اور رہائشی حصوں کی طرف جانے والا راستہ۔
- Ziarat Gate – مذہبی مقام اور مسجد کی جانب راستہ۔
- Begum Gate – جنوبی مغربی سمت واقع تاریخی دروازہ، جو اب زیادہ تر تباہ ہو چکا ہے۔
Military Strength and Strategic Importance
Pharwala Fort History سے معلوم ہوتا ہے کہ قلعہ صرف رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی مرکز بھی تھا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہاں ہر وقت تقریباً 500 سپاہی، 50 ہاتھی اور 100 گھوڑے دفاعی مقاصد کے لیے موجود رہتے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قلعہ اس دور میں کس قدر اہم عسکری مرکز تھا۔
قلعے کی تعمیر بھی مکمل طور پر دفاعی حکمتِ عملی کے مطابق کی گئی تھی۔ ایک جانب دریائے سواں، دوسری جانب بلند پہاڑیاں، موٹی دیواریں، گہرے دفاعی راستے اور بلند برج دشمن کے لیے اس قلعے کو فتح کرنا انتہائی مشکل بنا دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ Pharwala Fort History کو پوٹھوہار کی فوجی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
Why Pharwala Fort Was Difficult to Capture
- قدرتی دفاع کے لیے دریا اور پہاڑ۔
- 28 سے 30 فٹ بلند مضبوط دیواریں۔
- تقریباً 10 فٹ چوڑی فصیل۔
- تیر اندازی کے لیے دفاعی سوراخ۔
- محدود داخلی راستے اور مضبوط دروازے۔
- مستقل فوجی دستہ، ہاتھی اور گھڑ سوار موجود تھے۔
Mughal Rule and the Later History of Pharwala Fort
Pharwala Fort History entered a new chapter after the arrival of the Mughal Empire. Following Babur’s conquest in 1519, the Gakhar rulers became close allies of the Mughals and played an important role in several military campaigns. During Emperor Humayun’s reign, the Gakhars remained loyal to the Mughal throne, while Sher Shah Suri considered them a serious threat because of their strategic influence in the Pothohar region.
شیر شاہ سوری نے گکھڑوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنے کے لیے روہتاس قلعہ تعمیر کروایا، تاکہ مغلوں کے وفادار گکھڑوں پر نظر رکھی جا سکے۔ اس کے باوجود گکھڑ سردار سلطان سارنگ خان نے مزاحمت جاری رکھی اور اپنی بہادری کی مثال قائم کی۔ بعد میں اکبر اعظم کے دور میں گکھڑ خاندان کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جنہیں اکبر نے روہتاس قلعہ میں صلح کروا کر ختم کیا۔
Important Historical Events
- Babur captured Pharwala Fort in 1519.
- The Gakhars supported Babur during the First Battle of Panipat in 1526.
- Sher Shah Suri built Rohtas Fort to control the Gakhar region.
- Humayun regained support from the Gakhar rulers.
- Akbar divided the Gakhar territories to restore peace.
- The Sikh invasions eventually weakened the Gakhar Kingdom.
The Decline of the Gakhar Kingdom
Pharwala Fort History also tells the story of the gradual decline of one of the most powerful regional kingdoms. During the eighteenth century, continuous wars, internal conflicts, and Sikh invasions significantly weakened the Gakhar rulers.
سلطان مقرب خان گکھڑ سلطنت کے آخری طاقتور حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ان کے تعلقات مضبوط تھے، لیکن بعد میں سیاسی سازشوں اور جنگوں نے سلطنت کو کمزور کر دیا۔ آخرکار سکھ افواج نے قلعہ پھروالہ پر حملہ کیا، اسے شدید نقصان پہنچایا اور گکھڑ حکمرانوں کی کئی صدیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔
Reasons Behind the Decline
- اندرونی سیاسی اختلافات
- مسلسل جنگیں اور حملے
- سکھ افواج کی یلغار
- قلعے کی تباہی
- گکھڑ ریاست کا خاتمہ
- تاریخی ورثے کی عدم حفاظت
Hadiqa Kiani’s Historical Connection
پاکستان کی معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی کا نام حالیہ برسوں میں قلعہ پھروالہ کی تاریخ کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق ان کا تعلق کیانی خاندان سے ہے، جس کی نسل گکھڑ حکمرانوں سے جا ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قلعہ پھروالہ کا ذکر کرتے ہوئے حدیقہ کیانی کا نام بھی اکثر سامنے آتا ہے۔
اگرچہ حدیقہ کیانی اپنی موسیقی اور سماجی خدمات کی وجہ سے زیادہ معروف ہیں، لیکن ان کا یہ تاریخی خاندانی تعلق Pharwala Fort History میں عوامی دلچسپی کا باعث بنا ہے۔ اس حوالے سے قلعہ پھروالہ کی تاریخ نئی نسل تک بھی پہنچ رہی ہے۔
Note: یہ خاندانی نسبت تاریخی روایات اور شجرہ نسب کے دعوؤں پر مبنی ہے، اس لیے اسے ایک تاریخی روایت کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔
Location of Pharwala Fort
| Details | Information |
|---|---|
| Fort Name | Pharwala Fort |
| Tehsil | Kahuta |
| District | Rawalpindi |
| Province | Punjab |
| Country | Pakistan be 0 |
| Nearby City | Islamabad |
| Nearby River | Soan River |
| Historical Region | Pothohar Plateau |
Conclusion
Pharwala Fort History ہمیں ایک ایسے عظیم تاریخی ورثے سے متعارف کرواتی ہے جس نے تقریباً سات صدیوں تک پوٹھوہار کی سیاسی، عسکری اور ثقافتی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس قلعے کی مضبوط فصیلیں، تاریخی دروازے اور باقی ماندہ آثار آج بھی اس کے شاندار ماضی کی گواہی دیتے ہیں۔
اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ قلعہ پھروالہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے، لیکن اس کی تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ یہ مقام محققین، تاریخ دانوں، سیاحوں اور فوٹوگرافرز کے لیے یکساں دلچسپی رکھتا ہے۔ Pharwala Fort History پاکستان کے ان تاریخی مقامات میں شامل ہے جنہیں بہتر تحفظ اور عالمی سطح پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
آخر میں، قلعہ پھروالہ صرف گکھڑ سلطنت کی یادگار نہیں بلکہ پاکستان کی مشترکہ تہذیبی اور تاریخی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر اس تاریخی ورثے کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تو یہ مستقبل میں ملکی اور بین الاقوامی سیاحت کے لیے ایک نمایاں مرکز بن سکتا ہے، جبکہ Pharwala Fort History آنے والی نسلوں کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی.
FAQs.
Pharwala Fort History
Where is Pharwala Fort located?
Pharwala Fort is located near Charah Village in Kahuta Tehsil, Rawalpindi District, Punjab, Pakistan. It lies approximately 27 km east of Rawalpindi and around 17 km from Islamabad Highway.
Why is Pharwala Fort historically important?
Pharwala Fort was the capital of the Gakhar Kingdom and played a major role in the political, military, and cultural history of the Pothohar region for several centuries.
Who built Pharwala Fort?
According to historical records, Pharwala Fort was built between 1008 and 1012 AD by the Gakhar chief Kai Gohar (Kaigohar).
Who captured Pharwala Fort in 1519?
The fort was captured by Mughal Emperor Babur during his campaign in the Pothohar region in 1519, marking the beginning of Mughal–Gakhar relations.
How many gates does Pharwala Fort have?
Historically, Pharwala Fort had six main gates: Lashkari Gate, Qila Gate, Hathi Gate, Bagh Gate, Ziarat Gate, and Begum Gate.
What are the main attractions inside Pharwala Fort?
Visitors can explore the ancient fort walls, historic gates, old mosque ruins, the tomb of Sultan Muqarrab Khan, centuries-old graves, and the famous banyan tree.
Is Pharwala Fort open for tourists?
Yes, visitors can reach the fort, but access to some areas may be limited because parts of the site are privately occupied. It is advisable to seek permission from local residents before entering.
What is the connection between Hadiqa Kiani and Pharwala Fort?
Pakistani singer Hadiqa Kiani belongs to the Kiani family, whose ancestry is linked to the historic Gakhar rulers associated with Pharwala Fort.
Why did Pharwala Fort decline?
The fort declined after conflicts involving the Sikhs and the fall of the Gakhar Kingdom. Over time, much of the structure was damaged, abandoned, and left without proper conservation.
Why should travelers visit Pharwala Fort?
Pharwala Fort offers a unique combination of history, architecture, natural scenery, and cultural heritage, making it one of the most fascinating yet lesser-known historical sites in Pakistan.