Northern Pakistan Travel Diary – Journey to Tarishing and Rupal Valley (Part 3)

ToNorthern Pakistan Travel Diary – Journey to Tarishing and Rupal Valley (Part 3)

Nanga Parbat majestic view from Tarishing Village in Astore Valley
The magnificent Nanga Parbat towering above Tarishing Village in Astore Valley.

Chasing Dreams – Travel Diary Part 3

The journey through Northern Pakistan continues with another unforgettable chapter of our travel diary. This part of the adventure takes us to the breathtaking Tarishing Village and the majestic Rupal Valley, located in the shadow of the mighty Nanga Parbat. From early morning preparations to witnessing the first glimpse of the world’s ninth-highest mountain, every moment of this journey is filled with excitement, beauty, and a deep connection with nature.

Early Morning Preparations for the Journey

نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنی فیملی کو نیند سے جگانا ہمیشہ میرے لیے سب سے بڑا ٹاسک ہوتا ہے۔ ایک ایک کر کے سب کو جگانا اور پھر سب کا تیار ہونا واقعی صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن سفر کا شوق اور نئی منزل کی خوشی ہمیں ہر مشکل آسان محسوس کرواتی ہے۔

جب سب تیار ہو گئے تو ناشتے کی باری آئی۔ پہاڑوں کے سفر میں سادہ ناشتہ بھی بہت لطف دیتا ہے۔ چائے، انڈے اور بریڈ کے ساتھ ہم نے اپنے دن کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سامان گاڑی میں رکھا اور آج کے نئے سفر کیلئے روانگی کی تیاری مکمل کر لی۔

پہاڑی علاقوں میں صبح کا وقت انتہائی پرسکون اور تازگی سے بھرپور ہوتا ہے۔ فجر کے بعد جب آسمان آہستہ آہستہ روشن ہونے لگتا ہے تو پورا ماحول ایک روحانی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے لمحات میں سفر کا آغاز کرنا ایک خاص خوشی دیتا ہے۔

شمالی علاقوں کے سفر میں صبح جلدی نکلنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ دن کے وقت پہاڑی راستوں پر ٹریفک اور سیاحوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے زیادہ تر تجربہ کار مسافر یہی مشورہ دیتے ہیں کہ صبح جلد روانگی اختیار کی جائے۔

پہاڑوں میں سفر کرتے وقت سامان کی ترتیب بھی اہم ہوتی ہے۔ پانی، ہلکی خوراک، گرم کپڑے اور ضروری ادویات ہمیشہ ساتھ رکھنی چاہئیں کیونکہ موسم کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔

Journey Towards Gorikot

آج کے سفر کا پہلا مرحلہ گوریکوٹ کی طرف تھا۔ ہم نے گاڑی نکالی اور سفر کا آغاز کیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہم گوریکوٹ پہنچ گئے۔

یہاں سے دریا کو کراس کر کے دائیں جانب ایک سڑک شمال کے خوبصورت ترین گاؤں تریشنگ کی طرف جاتی ہے۔ یہ سڑک اگرچہ سنگل ہے لیکن ہر طرح کی گاڑی یہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ ابتدائی حصہ کچی سڑک پر مشتمل ہے مگر آگے جا کر راستہ بہتر ہو جاتا ہے۔

گوریکوٹ استور ویلی کا ایک اہم قصبہ ہے اور یہاں سے مختلف خوبصورت وادیوں کی طرف راستے نکلتے ہیں۔ یہ مقام دراصل سیاحوں کے لیے ایک مرکزی پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے آگے کے ایڈونچر کا آغاز ہوتا ہے۔

یہاں کے اردگرد پھیلے سبز میدان اور پہاڑی مناظر مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ دریا کے کنارے بسے چھوٹے چھوٹے گاؤں یہاں کی ثقافت اور سادہ زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں۔

گوریکوٹ سے تریشنگ جانے والی سڑک اگرچہ تنگ ہے لیکن اس کے اردگرد کے مناظر سفر کو انتہائی دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ ہر موڑ پر ایک نیا منظر آپ کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔

Tarishing – The Village of Dreams

تریشنگ صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ ایک خوابوں کی وادی ہے۔ یہاں آ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خواب اور حقیقت ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہوں۔

یہ جگہ مدت سے میری خواہشوں کی فہرست میں شامل تھی۔ جب ہم اس راستے پر سفر کر رہے تھے تو دل میں عجیب سی خوشی اور بے قراری تھی کیونکہ آج میرا ایک پرانا خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔

تریشنگ کو دنیا بھر کے کوہ پیما اور سیاح ایک خاص اہمیت دیتے ہیں کیونکہ یہ نانگا پربت کے روپل فیس تک جانے کا مرکزی راستہ ہے۔ اس گاؤں کا ماحول نہایت سادہ اور قدرتی حسن سے بھرپور ہے۔

یہاں کے لوگ انتہائی مہمان نواز اور سادہ زندگی گزارنے والے ہیں۔ سیاح جب یہاں پہنچتے ہیں تو انہیں مقامی لوگوں کی مسکراہٹ اور خلوص فوراً محسوس ہوتا ہے۔

تریشنگ کے اردگرد سرسبز چراگاہیں، کھیت اور چھوٹے چھوٹے گھر اس علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سیاح یہاں کئی دن قیام کرنا پسند کرتے ہیں۔

Tarishing Village scenic view with green valley and mountains
Beautiful Tarishing Village surrounded by green meadows and mountains.

First Glimpse of Nanga Parbat

راستے کا ابتدائی حصہ زیادہ دلکش نہیں تھا لیکن جیسے ہی ہم چھوریٹ گاؤں کے قریب پہنچے تو منظر بدلنے لگا۔ سرسبز وادیاں، کھلے میدان اور دور تک پھیلے پہاڑ سفر کو خوبصورت بنانے لگے۔

اسی دوران اچانک نانگا پربت کی پہلی جھلک نظر آئی۔ چلچلاتی دھوپ میں برف سے ڈھکی اس عظیم چوٹی کو دیکھ کر انسان مسحور ہو جاتا ہے۔ اس لمحے سفر کی ساری تھکن اور کلفت ختم ہو جاتی ہے۔

نانگا پربت کو دنیا میں Killer Mountain کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے اور اس کی بلندی تقریباً 8126 میٹر ہے۔

اس کی پہلی جھلک دیکھنا واقعی ایک یادگار لمحہ ہوتا ہے۔ جب سورج کی روشنی برف سے ڈھکی چوٹی پر پڑتی ہے تو یہ منظر ایسا لگتا ہے جیسے قدرت نے سفید ہیرے پہاڑ پر سجا دیے ہوں۔

نانگا پربت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑی کشش رکھتا ہے۔ ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے مہم جو یہاں آتے ہیں۔

First glimpse of Nanga Parbat from Tarishing Valley
The first magical glimpse of Nanga Parbat during the journey to Tarishing.

Natural Beauty and Environmental Wisdom

راستے میں ہم نے ایک دلچسپ منظر دیکھا۔ سڑک کے کنارے چھوٹے درختوں کے تنوں پر کپڑے لپٹے ہوئے تھے۔ ہمیں تجسس ہوا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

بعد میں معلوم ہوا کہ مقامی لوگ پودوں کو بکریوں اور دوسرے جانوروں سے بچانے کیلئے درختوں کے تنوں پر کپڑا لپیٹ دیتے ہیں تاکہ جانور انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔ یہ دیکھ کر دل میں ان لوگوں کیلئے احترام پیدا ہوا کہ وہ کس خوبصورت انداز میں ماحول کا تحفظ کرتے ہیں۔

استور اور تریشنگ کے علاقوں میں قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے کی ایک خوبصورت روایت موجود ہے۔مقامی لوگ اپنے اردگرد کے درختوں اور پودوں کی حفاظت کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔

 

درختوں کے تنوں پر کپڑا لپیٹنے کی روایت دراصل ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ ہے جس کے ذریعے پودوں کو جانوروں کے نقصان سے بچایا جاتا ہے۔

یہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنا جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

Rupal Valley scenic landscape with Nanga Parbat in the background
Rupal Valley – one of the most beautiful valleys beneath Nanga Parbat.

Arrival in Tarishing Village

حسن کے رنگوں میں ڈوبا سفر کرتے ہوئے آخر کار ہم تریشنگ پہنچ گئے۔ گاڑی ایک ہوٹل کے لان میں پارک کی اور جیسے ہی باہر نکل کر سامنے دیکھا تو ہماری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

سامنے نانگا پربت اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔ دودھ سے زیادہ سفید برف سے ڈھکی اس چوٹی کا منظر دل کو مسحور کر دینے والا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ عظیم پہاڑ پوری وادی پر سایہ کیے ہوئے ہو۔

تریشنگ پہنچ کر انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دنیا کے شور و غل سے دور کسی خاموش جنت میں آ گیا ہو۔ یہاں کی فضا نہایت صاف اور ٹھنڈی ہوتی ہے۔

وادی کے چاروں طرف بلند پہاڑ کھڑے ہیں جبکہ درمیان میں سبز میدان اور کھیت پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ منظر کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر جیسا لگتا ہے۔

سیاح یہاں آ کر اکثر کچھ دیر خاموشی سے بیٹھ کر قدرت کے اس شاہکار کو دیکھتے رہتے ہیں کیونکہ ایسے مناظر روزمرہ زندگی میں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

Preparing for the Adventure to Rupal Valley

تریشنگ سے ہمارا اگلا ہدف روپل ویلی اور Herrligkoffer Base Camp تھا۔ یہ نانگا پربت کا پہلا بیس کیمپ ہے۔

اس مقصد کیلئے سفیان نے ایک جیپ ڈرائیور سے بات کی اور آٹھ ہزار روپے میں ہماری ڈیل طے ہو گئی۔ ہم نے اپنے بیک پیک، پانی کی بوتلیں، ہائکنگ اسٹکس اور ضروری سامان گاڑی سے نکال کر جیپ میں رکھ دیا۔

روپل ویلی کو دنیا کی سب سے خوبصورت پہاڑی وادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ دراصل نانگا پربت کے جنوبی رخ کے نیچے واقع ہے اور یہاں سے پہاڑ کا منظر انتہائی شاندار دکھائی دیتا ہے۔

بہت سے سیاح یہاں سے ہائکنگ اور ٹریکنگ کا آغاز کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ روانگی سے پہلے سامان اچھی طرح تیار کیا جائے۔

ہائکنگ کے لیے مضبوط جوتے، پانی، سن بلاک، ٹوپی اور ہائکنگ اسٹکس بہت مفید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ پہاڑی راستے بعض اوقات کافی مشکل بھی ہو سکتے ہیں۔

the starting point for Nanga Parbat trekking.
Rupal Base Camp – the starting point for Nanga Parbat trekking.

Jeep Adventure Towards Rupal Base Camp

ہم انتہائی جوش و خروش کے ساتھ جیپ میں سوار ہو کر روپل کی طرف روانہ ہوئے۔ شروع میں راستہ کچھ ویران تھا مگر تھوڑی دیر بعد سرسبز مناظر شروع ہو گئے۔

راستے میں کھیتوں میں خواتین آلو کی کاشت میں مصروف نظر آئیں۔ ڈرائیور نے جیپ کی چھت کھول دی اور ہم ہچکولے کھاتی جیپ میں کھڑے ہو کر اس ایڈونچر کا بھرپور لطف لینے لگے۔

تریشنگ سے روپل ویلی تک جیپ کا سفر اپنے آپ میں ایک دلچسپ ایڈونچر ہوتا ہے۔ راستہ کہیں پتھریلا اور کہیں گھاس سے ڈھکا ہوتا ہے۔

جیپ کے ذریعے سفر کرتے ہوئے سیاح وادی کے مختلف مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ سرسبز چراگاہیں، کھیتوں میں کام کرتے مقامی لوگ اور دور نظر آتے پہاڑ اس سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔

یہاں کے راستے اگرچہ قدرے دشوار ہوتے ہیں لیکن قدرتی مناظر اس سفر کی ہر مشکل کو آسان بنا دیتے ہیں۔

Jeep adventure road from Tarishing to Rupal Valley
Adventurous jeep ride from Tarishing to Rupal Valley.

Arrival at Rupal Base Camp

تقریباً آدھے پونے گھنٹے کے سفر کے بعد ہم روپل بیس کیمپ پہنچ گئے۔ یہاں تک جیپ کی رسائی تھی، اس کے بعد آگے کا سفر پیدل طے کرنا تھا۔

یہاں سیاحوں کیلئے کیمپ بھی موجود ہیں اور سادہ کھانے کا انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ جیپ ڈرائیور نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم جڑی بوٹیوں والا قہوہ پی لیں کیونکہ اونچائی پر جانے سے پہلے یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

ہم نے اس مشورے پر عمل کیا کیونکہ ہمیں اپنے مرشد نانگا پربت کے قدموں تک پہنچنے کی جلدی تھی۔

روپل بیس کیمپ دراصل وہ مقام ہے جہاں سے نانگا پربت کے قریب جانے والے کوہ پیما اپنی مہم کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں عارضی کیمپ اور بنیادی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔

یہاں پہنچ کر سیاح اکثر کچھ دیر آرام کرتے ہیں اور آگے کے سفر کی تیاری کرتے ہیں۔ بلند پہاڑوں کے درمیان یہ جگہ ایک خاص سکون اور عظمت کا احساس دلاتی ہے۔

روپل بیس کیمپ سے نانگا پربت کا منظر انتہائی شاندار نظر آتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان قدرت کی عظمت کے سامنے خود کو بہت چھوٹا محسوس کرتا ہے۔

Conclusion

تریشنگ اور روپل ویلی کا یہ سفر ہماری ٹریول ڈائری کا ایک یادگار باب بن گیا۔ فجر کی خاموش صبح سے شروع ہونے والا یہ سفر ہمیں ایسے مناظر تک لے آیا جہاں قدرت کی عظمت اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر تھی۔

تریشنگ کی سرسبز وادی اور اس کے پس منظر میں کھڑا عظیم نانگا پربت ایسا منظر پیش کر رہا تھا جو انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔ اس پہاڑ کی پہلی جھلک دیکھتے ہی احساس ہوتا ہے کہ انسان قدرت کے سامنے کتنا چھوٹا ہے اور یہ کائنات کتنی عظیم ہے۔

روپل ویلی کی طرف جیپ کا ایڈونچر، مقامی لوگوں کی سادہ زندگی، کھیتوں میں کام کرتی خواتین اور پہاڑوں کے درمیان بہتی ٹھنڈی ہوا اس سفر کو مزید یادگار بنا رہی تھی۔

یہ سفر ہمیں صرف نئی جگہوں تک نہیں لے گیا بلکہ ہمیں فطرت کے قریب ہونے اور اس کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کا موقع بھی ملا۔ اب اگلا مرحلہ نانگا پربت کے قدموں تک پہنچنے کا ہے جہاں اصل ایڈونچر ہمارا انتظار کر رہا ہے۔

FAQ

Q.Where is Tarishing Village located?

A: تریشنگ گاؤں گلگت بلتستان کے ضلع استور میں واقع ہے۔ یہ خوبصورت گاؤں نانگا پربت کے روپل فیس کے قریب واقع ہے اور دنیا بھر کے سیاح اور کوہ پیما یہاں آتے ہیں۔

Q.How can tourists reach Tarishing Village?

A: سیاح استور یا گوریکوٹ سے سڑک کے ذریعے تریشنگ پہنچ سکتے ہیں۔ راستہ اگرچہ کچھ مقامات پر تنگ اور کچا ہے لیکن عام گاڑیاں اور جیپ یہاں تک آسانی سے پہنچ سکتی ہیں۔

Q.What is special about Rupal Valley?

A: روپل ویلی نانگا پربت کے جنوبی رخ کے نیچے واقع ایک نہایت خوبصورت وادی ہے۔ یہاں سے نانگا پربت کا منظر انتہائی شاندار دکھائی دیتا ہے اور یہی جگہ کئی کوہ پیماؤں کی مہمات کا آغاز بھی ہوتی ہے۔

Q.Can tourists visit Nanga Parbat Base Camp from Tarishing?

A: جی ہاں، تریشنگ سے جیپ کے ذریعے روپل بیس کیمپ تک پہنچا جا سکتا ہے اور وہاں سے ہائکنگ کے ذریعے نانگا پربت کے بیس کیمپ تک جایا جا سکتا ہے۔ یہ سفر ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے۔

Q.What is the best time to visit Tarishing and Rupal Valley?

A: تریشنگ اور روپل ویلی کی سیر کیلئے بہترین وقت مئی سے ستمبر تک ہوتا ہے۔ اس دوران موسم نسبتاً معتدل اور راستے قابلِ رسائی ہوتے ہیں جبکہ قدرتی مناظر اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

 

Leave a Comment