Northern Pakistan Travel Diary – Journey Through Karakoram Highway to Jaglot (Part 4)
Chasing Dreams – Travel Diary Part 4

The adventure through Northern Pakistan continues with another memorable chapter of our travel diary. In this part of the journey, we travel along the legendary Karakoram Highway from Chilas toward Jaglot. The road offers breathtaking mountain views but also brings unexpected challenges like landslides and vehicle troubles. Along the way, we witness the majestic Nanga Parbat and experience moments that remind us how travel connects us with nature, patience, and faith.
Driving Through the Isolated Karakoram Highway
چلاس سے آگے شاہراہ قراقرم پر آبادی بہت کم ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر سفر خاموش پہاڑوں اور لمبی سنسان سڑکوں کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس راستے پر کبھی کبھار سامنے سے آنے والی گاڑی کو دیکھ کر عجیب سی تسلی ہوتی ہے کہ راستہ کھلا ہے اور زندگی کی کچھ حرکت ابھی باقی ہے۔
جولائی کے مہینے میں اس علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ زیادہ رہتا ہے کیونکہ چلاس سے تتہ پانی تک کے پہاڑ زیادہ تر نرم اور بھر بھری مٹی کے ہیں۔ بارش کے دنوں میں یہ مٹی سرک جاتی ہے اور کئی دفعہ سڑک بند بھی ہو جاتی ہے۔
شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی دنیا کے منفرد ترین راستوں میں سے ایک پر سفر کر رہا ہے۔ یہ سڑک بلند و بالا پہاڑوں، گہری وادیوں اور دریائے سندھ کے کنارے کنارے گزرتی ہے۔ بعض مقامات پر سڑک اتنی سنسان ہوتی ہے کہ کئی کئی منٹ تک کوئی گاڑی نظر نہیں آتی۔
اس راستے کا ایک خاص حسن یہ بھی ہے کہ یہاں فطرت اپنی اصل شکل میں نظر آتی ہے۔ کہیں چٹانوں کے درمیان سے بہتا ہوا پانی، کہیں دور برف پوش چوٹیاں اور کہیں وسیع و عریض خشک پہاڑ۔ ایسے مناظر انسان کو بار بار رک کر قدرت کی خوبصورتی کو محسوس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ سڑک صرف ایک سفری راستہ نہیں بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سیاحت کیلئے بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے دنیا کے اہم ترین پہاڑی ہائی ویز میں شمار کیا جاتا ہے۔A

Short Stop at Goner Farm
انہی خدشات کے درمیان سفر کرتے ہوئے ہم لوگ گونر فارم پہنچ گئے۔ یہ شاہراہ قراقرم پر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن مسافروں کے لیے بہت اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
یہاں چھوٹی دکانیں، ضروری اشیاء اور کبھی کبھار موبائل سروس بھی مل جاتی ہے۔ ہم نے یہاں سے S.Com کی سم خریدی اور اس پر انٹرنیٹ پیکج کروایا۔ اس ویرانے میں اچانک دنیا سے رابطہ ہونا ایک بڑی نعمت محسوس ہوا۔
شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی دنیا کے منفرد ترین راستوں میں سے ایک پر سفر کر رہا ہے۔ یہ سڑک بلند و بالا پہاڑوں، گہری وادیوں اور دریائے سندھ کے کنارے کنارے گزرتی ہے۔ بعض مقامات پر سڑک اتنی سنسان ہوتی ہے کہ کئی کئی منٹ تک کوئی گاڑی نظر نہیں آتی۔
اس راستے کا ایک خاص حسن یہ بھی ہے کہ یہاں فطرت اپنی اصل شکل میں نظر آتی ہے۔ کہیں چٹانوں کے درمیان سے بہتا ہوا پانی، کہیں دور برف پوش چوٹیاں اور کہیں وسیع و عریض خشک پہاڑ۔ ایسے مناظر انسان کو بار بار رک کر قدرت کی خوبصورتی کو محسوس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ سڑک صرف ایک سفری راستہ نہیں بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سیاحت کیلئے بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے دنیا کے اہم ترین پہاڑی ہائی ویز میں شمار کیا جاتا ہے۔
Unexpected Car Trouble on the Road
تتہ پانی کے علاقے سے آگے نکلتے ہی اچانک تیز دھوپ میں گاڑی رک گئی۔ ہم سب پریشان ہو گئے کیونکہ اس ویران شاہراہ پر نہ کوئی مکینک تھا اور نہ ہی موبائل سگنل۔
ہم نے خود ہی گاڑی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران شدید دھوپ نے سفیان کو بہت تنگ کیا تو اس نے کپڑا اپنے سر اور چہرے پر لپیٹ لیا۔ تقریباً دس منٹ بعد گاڑی دوبارہ چل پڑی اور ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
پہاڑی علاقوں میں لمبے سفر کے دوران گاڑی کا خراب ہو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اکثر سڑکیں طویل، سنسان اور ورکشاپ سے دور ہوتی ہیں اس لیے مسافروں کو ہمیشہ ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔
ایسے مواقع پر سب سے اہم چیز صبر اور حوصلہ ہوتا ہے۔ گھبراہٹ کی بجائے سکون سے مسئلہ سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر بنیادی ٹولز اور تھوڑی بہت معلومات موجود ہو تو کئی مسائل خود بھی حل ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح سفر میں پانی، اضافی فیول اور گاڑی کے ضروری پارٹس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ پہاڑی راستوں میں ہر سہولت فوری دستیاب نہیں ہوتی۔
Moments of Reflection in the Wilderness
لیکن سفر ابھی مزید امتحان لے رہا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد گاڑی دوبارہ رک گئی۔ اس وقت ہم تھلیچی کے قریب تھے اور چاروں طرف خاموش پہاڑ اور سنسان سڑک تھی۔
ایسی صورتحال میں انسان کو اپنے رب کی یاد زیادہ آتی ہے۔ میں نے اللہ کی توحید کی گواہی دی اور اپنے آقا ﷺ پر درود بھیجا۔ میرا یقین ہے کہ یہ پہاڑ اور یہ زمین قیامت کے دن گواہی دیں گے کہ یہاں اللہ کا ذکر کیا گیا تھا۔
سنسان پہاڑوں اور خاموش وادیوں میں بیٹھ کر انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے کا ایک نیا موقع ملتا ہے۔ سفر صرف جسمانی نقل و حرکت نہیں بلکہ روحانی تجربہ بھی بن جاتا ہے۔
پہاڑوں کی خاموشی میں انسان اپنے رب کے زیادہ قریب محسوس کرتا ہے۔ جب چاروں طرف قدرت کے عظیم مناظر ہوں تو دل خود بخود اللہ کی عظمت کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔
شمالی علاقوں کے سفر میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان دنیا کی مصروفیات سے دور ہو کر سکون اور شکر گزاری کا حقیقی احساس حاصل کرتا ہے۔
A Hidden Viewpoint of Nanga Parbat
اسی دوران اللہ کا کرم ہوا کہ سورج بادلوں میں چھپ گیا اور گرمی کم ہو گئی۔ ہم سب گاڑی سے باہر آ کر شاہراہ کے کنارے بیٹھ گئے۔
اچانک ہماری نظر سامنے پڑی تو دور برف سے ڈھکی عظیم چوٹی نظر آئی۔ یہ مرشد نانگا پربت تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہاں سے اس کا نظارہ تھلیچی ویو پوائنٹ سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔
نانگا پربت دنیا کا نواں بلند ترین پہاڑ ہے اور اسے اکثر Killer Mountain بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی چڑھائی بہت مشکل سمجھی جاتی ہے۔ لیکن دور سے اس کا نظارہ انتہائی دلکش اور متاثر کن ہوتا ہے۔
شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے کئی مقامات سے نانگا پربت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ہر زاویے سے اس کی شکل اور انداز مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ نانگا پربت کے سو چہرے ہیں۔
جب موسم صاف ہو تو اس کی برف پوش چوٹی سورج کی روشنی میں چمکتی ہوئی نظر آتی ہے جو سیاحوں کیلئے ایک ناقابل فراموش منظر بن جاتا ہے۔

Arrival in Jaglot Town
کچھ دیر بعد گاڑی دوبارہ چل پڑی اور ہم نے سفر جاری رکھا۔ راستے میں نانگا پربت کی جھلک مسلسل نظر آتی رہی۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس پہاڑ کے سو چہرے ہیں اور ہر زاویے سے اس کا حسن مختلف ہوتا ہے۔
آخرکار ہم جگلوٹ پہنچ گئے جو ایک بڑا قصبہ اور تحصیل ہے۔ یہاں ہوٹل، مارکیٹ اور گاڑیوں کی ورکشاپ سمیت تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔
جگلوٹ گلگت بلتستان کا ایک اہم قصبہ ہے اور یہاں سے کئی اہم راستے نکلتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ایک سڑک گلگت کی طرف جاتی ہے جبکہ دوسری سڑک سکردو کی طرف مڑتی ہے۔
یہ قصبہ مسافروں کیلئے ایک اہم پڑاؤ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں مارکیٹ، ہوٹل، ورکشاپ اور دیگر بنیادی سہولیات آسانی سے مل جاتی ہیں۔ طویل سفر کے بعد یہاں رک کر آرام کرنا بہت سے سیاحوں کیلئے ایک اچھا فیصلہ ہوتا ہے۔
جگلوٹ کے اردگرد کے پہاڑ اور دریا بھی خوبصورت مناظر پیش کرتے ہیں اور اکثر مسافر یہاں کچھ وقت گزار کر اپنے سفر کو مزید خوشگوار بنا لیتے ہیں۔

Overnight Stay and Plans for Skardu
شام کے پانچ بج چکے تھے اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ آج سکردو روڈ پر سفر شروع نہیں کریں گے کیونکہ حالیہ دنوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے یہ راستہ خطرناک ہو چکا تھا۔
ہم نے ایک ہوٹل میں کمرہ لیا اور گاڑی کو ورکشاپ لے گئے جہاں اس کا فیول پمپ تبدیل کیا گیا۔ اس کے بعد کچھ اطمینان ہوا۔
مغرب کی نماز کے بعد ہم کمرے میں واپس آ گئے اور فیصلہ کیا کہ اگر راستہ کھلا ہوا ہوا تو صبح سکردو کے لیے روانہ ہوں گے۔
سکردو کی طرف جانے والی سڑک پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہے اور بعض مقامات پر یہ راستہ کافی دشوار بھی ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر سیاح شام کے بعد اس راستے پر سفر شروع نہیں کرتے۔
جگلوٹ میں رات گزارنا ایک بہتر فیصلہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں آرام کے بعد اگلے دن تازہ دم ہو کر سفر شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران مسافر راستے کی تازہ صورتحال بھی معلوم کر لیتے ہیں۔
خاص طور پر لینڈ سلائیڈنگ کے موسم میں سفر کرنے والے لوگوں کو ہمیشہ مقامی افراد یا انتظامیہ سے راستے کی معلومات ضرور حاصل کرنی چاہیے تاکہ سفر محفوظ اور آسان رہے۔
Travel Challenges on the Karakoram Highway
شاہراہ قراقرم دنیا کی بلند ترین پکی سڑکوں میں شمار ہوتی ہے اور اسے اکثر آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سڑک پاکستان اور چین کو آپس میں ملاتی ہے اور ہزاروں سیاح ہر سال اس راستے سے شمالی علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔
لیکن اس سڑک پر سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ پہاڑی علاقوں میں بارش، برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اکثر راستے بند ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر چلاس اور جگلوٹ کے درمیان کچھ حصے ایسے ہیں جہاں مٹی کے پہاڑ ہونے کی وجہ سے سلائیڈنگ کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔
اسی لیے اس روڈ پر سفر کرنے والے مسافروں کو ہمیشہ احتیاط، صبر اور مناسب تیاری کے ساتھ سفر کرنا چاہیے۔
The Legendary Karakoram Highway (KKH)
شاہراہ قراقرم جسے مختصراً KKH کہا جاتا ہے، پاکستان کے شمالی علاقوں کی سب سے اہم شاہراہ ہے۔ یہ سڑک حسن، گلگت، نگر اور ہنزہ جیسے خوبصورت علاقوں تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔
یہ شاہراہ پہاڑوں، دریاوں اور وادیوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔ سفر کے دوران کہیں بلند چٹانیں نظر آتی ہیں تو کہیں نیچے بہتا ہوا دریائے سندھ۔ یہی وجہ ہے کہ اس روڈ کو دنیا کے خوبصورت ترین ہائی ویز میں شمار کیا جاتا ہے۔
سیاح اکثر اس راستے پر رک رک کر تصاویر لیتے ہیں کیونکہ ہر موڑ پر ایک نیا منظر ان کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔

Thalichi – One of the Best Viewpoints of Nanga Parbat
تھلیچی نانگا پربت کے نظارے کیلئے مشہور مقام ہے۔ یہاں سے دنیا کے نویں بلند ترین پہاڑ نانگا پربت کا ایک شاندار منظر دیکھا جا سکتا ہے۔
بہت سے سیاح خاص طور پر یہاں رک کر تصاویر لیتے ہیں کیونکہ صاف موسم میں نانگا پربت کی برف پوش چوٹی بہت واضح نظر آتی ہے۔ اس جگہ کو سیاحوں کیلئے ایک قدرتی ویو پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ ہم یہاں باقاعدہ نہیں رکے لیکن راستے میں ہمیں نانگا پربت کے کئی خوبصورت زاویے دیکھنے کا موقع ملا۔
Jaglot – A Gateway Town in Gilgit-Baltistan
جگلوٹ گلگت بلتستان کا ایک اہم قصبہ ہے اور یہاں سے کئی اہم راستے نکلتے ہیں۔ ایک راستہ گلگت کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا سکردو کی طرف مڑ جاتا ہے۔
یہ قصبہ مسافروں کیلئے اہم پڑاؤ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں ہوٹل، مارکیٹ، ورکشاپ اور دیگر ضروری سہولیات موجود ہیں۔ لمبے سفر کے بعد اکثر سیاح یہاں قیام کرتے ہیں تاکہ اگلے دن تازہ دم ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکیں۔
خاص طور پر سکردو جانے والے مسافر اکثر جگلوٹ میں رات گزارتے ہیں کیونکہ رات کے وقت سکردو روڈ پر سفر کرنا محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔
Travel Tips for Karakoram Highway Travelers
شاہراہ قراقرم پر سفر کرنے والے سیاحوں کیلئے چند احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے گاڑی کی مکمل چیکنگ کروانا ضروری ہے کیونکہ راستے میں ورکشاپ ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتیں۔
اس کے علاوہ پانی، خشک خوراک اور بنیادی ادویات ساتھ رکھنا بھی ضروری ہے۔ موبائل سگنل اکثر علاقوں میں نہیں ہوتے اس لیے ضروری رابطے پہلے ہی مکمل کر لینے چاہئیں۔
پہاڑی علاقوں میں موسم بھی اچانک تبدیل ہو سکتا ہے اس لیے گرم کپڑے اور بارش سے بچاؤ کا سامان بھی ساتھ ہونا چاہیے۔
Conclusion
شمالی پاکستان کا سفر ہمیشہ یادگار تجربات سے بھرا ہوتا ہے۔ شاہراہ قراقرم پر چلاس سے جگلوٹ تک کا یہ سفر ہمیں قدرت کے حیرت انگیز مناظر، خاموش پہاڑوں اور غیر متوقع حالات سے روشناس کرواتا ہے۔ سفر کے دوران گاڑی کا خراب ہونا اور سنسان راستوں میں رک جانا بظاہر مشکل لمحے تھے، لیکن انہی لمحوں نے ہمیں صبر، دعا اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا سبق بھی دیا۔
نانگا پربت کے دلکش نظارے، شاہراہ قراقرم کی عظمت اور جگلوٹ کا پرامن ماحول اس سفر کے ایسے لمحات تھے جو ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ہر موڑ پر فطرت کا نیا رنگ اور پہاڑوں کی خاموش عظمت دل کو مسحور کر دیتی ہے۔
یہ سفر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ منزل سے زیادہ اہم وہ راستے ہوتے ہیں جو ہمیں نئی کہانیاں، نئے تجربات اور نئی یادیں دیتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں ہمارا سفر سکردو کی طرف جاری رہے گا جہاں مزید خوبصورت وادیاں اور حیرت انگیز مناظر ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔
FAQ
Where is Jaglot located in Pakistan?
Jaglot is a small town located in Gilgit-Baltistan on the famous Karakoram Highway. It is an important junction where the road splits toward Gilgit and Skardu.
Why is the Karakoram Highway considered a unique road?
The Karakoram Highway is known as one of the highest paved international roads in the world. It connects Pakistan with China and passes through some of the most spectacular mountain landscapes.
Is it safe to travel on the Karakoram Highway during the monsoon season?
Travel is possible, but caution is required because landslides can occur in certain areas during heavy rains, especially between Chilas and Jaglot.
What is the best viewpoint to see Nanga Parbat along the Karakoram Highway?
Thalichi Viewpoint is considered one of the best places to see Nanga Parbat from the Karakoram Highway.
Why do travelers often stay overnight in Jaglot?
Many travelers stop in Jaglot to rest before continuing their journey to Skardu or Gilgit, especially because mountain roads can be risky to travel at night