Chasing Dreams Travel Diary – Part 17: Farewell to the Mountains

Chasing Dreams Travel Diary – Part 17: Farewell to the Mountains

Panoramic view of Sailung Valley at sunset, Khaplu
Sailung Valley – The final leg of the Chasing Dreams Travel Diary journey

Every journey eventually reaches its final chapter, but the memories it leaves behind continue forever. After exploring the beautiful valleys of Baltistan, our adventure now moves toward its last moments. From Mashabrum viewpoints to the crystal lakes of Sailing Valley, this final day of the journey is filled with breathtaking landscapes, peaceful reflections, and an emotional farewell to the mountains.

Journey Towards Sailing Valley

Crossing the Shyok River

اب ہم سیلنگ کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ سیلنگ جانے کے لیے عام طور پر دریائے شیوک کے دوسری طرف جانا پڑتا ہے۔ مگر ہم نے پل کراس کرنے کے بجائے سیاچن روڈ کی طرف گاڑی بڑھائی۔ تھوڑا آگے آرمی کی ایک چیک پوسٹ تھی جہاں سے آگے جانے کے لیے اجازت درکار ہوتی ہے۔

خوش قسمتی سے ہمیں اجازت مل گئی، مگر اس شرط کے ساتھ کہ ہم صرف ویو پوائنٹ تک جائیں گے اور وہاں سے واپس آ جائیں گے۔ سیاچن کی طرف مزید سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

Mashabrum View Point

A Glimpse of the Mighty Peak

ویو پوائنٹ سے دور افق پر مشہ بروم کی عظیم چوٹی نظر آ رہی تھی۔ یہ دنیا کی نویں بلند ترین چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے اور ہمیشہ برف کی سفید چادر اوڑھے رہتی ہے۔

دریائے شیوک کے کنارے واقع یہ ویو پوائنٹ نہایت دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ وسیع دریا، اردگرد کے پہاڑ اور پس منظر میں مشہ بروم کا نظارہ واقعی ایک یادگار لمحہ تھا۔ ہم نے یہاں کچھ دیر رک کر اس حسین منظر کو محسوس کیا اور تصاویر بنائیں۔

Mashabrum View Point overlooking Shyok River and surrounding mountains
Breathtaking view of Mashabrum and the Shyok River from the viewpoint

Haldi Cones and Sailing Bridge

A Unique Mountain Formation

واپسی پر ہم سیلنگ برج پر پہنچے۔ اس برج سے سب سے خوبصورت نظارہ ہلدی کونز کا تھا۔ یہ مخروطی شکل کے پہاڑ ہیں جو دیکھنے میں چاکلیٹ کونز جیسے محسوس ہوتے ہیں۔

ان کے دامن میں ہلدی نامی گاؤں واقع ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ کسی حد تک پسو کونز سے مشابہت رکھتا ہے اور بلتستان کے انوکھے قدرتی مناظر میں شمار ہوتا ہے۔

The Iconic Twin Trees of Sailing

پل کراس کرنے کے بعد ہم ایک لنک روڈ پر مڑے۔ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ سڑک کے درمیان آمنے سامنے دو درخت نظر آئے جو اپنے منفرد انداز کی وجہ سے فوراً توجہ کھینچ لیتے ہیں۔

میں نے فوراً کہا،
“سفیان رکو… وہ دیکھو سیلنگ کے iconic twin trees!”

ہم نے گاڑی روکی اور وہاں چند تصاویر بنائیں۔ ایسے چھوٹے چھوٹے مقامات ہی سفر کو خاص بنا دیتے ہیں۔

Sailing Fish Farm and Green Lake

A Hidden Local Spot

اس کے بعد ہم سیلنگ فش فارم پہنچے جہاں سڑک کے بائیں جانب ایک خوبصورت جھیل موجود تھی۔ اس جھیل کا پانی حیرت انگیز حد تک سبز نظر آ رہا تھا۔

یہ جگہ زیادہ تر مقامی لوگوں میں مشہور ہے اور سیاح کم ہی آتے ہیں۔ ہم نے یہاں کچھ دیر آرام کیا اور کھانا بھی کھایا۔

Iconic twin trees along the road to Sailung near Khaplu
The famous Sailung twin trees, a natural landmark along the scenic road

Soga Crystal Lake

One of the Clearest Lakes

فش فارم سے آگے ہم دریائے شیوک کے ساتھ ساتھ سفر کرتے رہے۔ تقریباً پچیس منٹ بعد ہم سوغا کرسٹل لیک پہنچ گئے۔

یہ جھیل واقعی اپنی مثال آپ تھی۔ پانی اتنا شفاف تھا کہ اس کی تہہ تک نظر آ رہی تھی۔ سورج کی روشنی میں قوسِ قزح کے مختلف رنگ پانی میں جھلملاتے دکھائی دے رہے تھے۔

سفیان نے اپنا آئی فون پانی میں ڈال کر ویڈیو بھی بنائی۔ یہ منظر دیکھ کر محسوس ہوا جیسے فطرت نے یہاں ایک چھوٹا سا جنت کا ٹکڑا رکھ دیا ہو۔

Soga Crystal Lake reflecting rainbow hues near Sailung
Stunning clarity and rainbow reflections at Soga Crystal Lake

Return to Khaplu

A Rainy Farewell

واپس آتے ہوئے ہلکی ہلکی بارش نے خپلو کو ایک رومانوی خمار میں لپیٹ لیا تھا۔ موسم پوری شدت سے ہمیں اپنے حصار میں لینا چاہتا تھا۔

مگر ہم نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آج رات ہمیں سکردو پہنچنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خپلو کو مکمل طور پر دیکھنے کے لیے کم از کم تین دن درکار ہیں، جبکہ ہمارے پاس وقت اور بجٹ دونوں ختم ہو چکے تھے۔

آج رات کا قیام سکردو سٹی میں ہونا تھا اور اگلی صبح ہمیں ناران کے لیے روانہ ہونا تھا۔

The Journey May End, But Memories Stay

فاطمہ کی خواہش تھی کہ اگلی رات ناران میں قیام ہو تاکہ وہ ناران بازار کی رونقیں دیکھ سکے۔ اس کے بعد اگلے دن ہم اپنے گھر کی طرف روانہ ہونے والے تھے۔

پھر وہی زندگی کی مصروفیات، نوکری کی ذمہ داریاں اور روزمرہ کے کام ہمارا انتظار کر رہے تھے۔

مگر ایک بات طے ہے کہ یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوگا۔ یہ ہمیشہ یادوں میں زندہ رہے گا۔ جب زندگی کی تھکن بڑھنے لگے گی تو ہم دوبارہ انہی پہاڑوں کی طرف لوٹ آئیں گے۔

پہاڑ انسان کی پہلی آماجگاہ ہیں۔ شاید اسی لیے ان سے محبت ہمارے وجود اور ہمارے DNA میں شامل ہے۔

میں اپنے رب کی بے حد شکر گزار ہوں جس نے ہمیں اپنی خوبصورت کائنات کے یہ حسین مناظر دیکھنے کا موقع دیا۔ یہ سفر جو کبھی صرف ایک خیال تھا، آج شکرانے کے نوافل کے ساتھ مکمل ہوا۔

میں اپنی فیملی کی بھی دل سے شکر گزار ہوں جو ہر قدم پر میرے ساتھ رہی۔

آپ سب کا بھی شکریہ جنہوں نے اس سفر میں دلچسپی لی اور محبت دی۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں بار بار اپنی اس حسین کائنات کی سیر کا موقع عطا فرمائے۔

Goodbyes are never easy…مگر پہاڑوں سے محبت ہمیشہ باقی رہتی ہے

Conclusion.

یوں خوابوں کے تعاقب میں شروع ہونے والا یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ سیلنگ ویلی کے دلکش مناظر، مشہ بروم ویو پوائنٹ کی شان دار چوٹی، ہلدی کونز کی منفرد ساخت، اور سوغا کرسٹل لیک کی شفاف خوبصورتی نے اس آخری دن کو بھی یادگار بنا دیا۔ ہر موڑ پر فطرت نے ہمیں حیران کیا اور ہر منظر نے دل میں ایک نئی خوشی جگائی۔

یہ سفر صرف پہاڑوں اور وادیوں کی سیر نہیں تھا بلکہ ایک روحانی اور جذباتی تجربہ بھی تھا۔ ان لمحات نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ قدرت کے قریب آ کر انسان اپنے رب کو زیادہ قریب محسوس کرتا ہے۔ شاید اسی لیے پہاڑوں میں ایک عجیب سکون ہوتا ہے جو انسان کو بار بار اپنی طرف بلاتا ہے۔

اب اگرچہ یہ ٹریول ڈائری ختم ہو رہی ہے مگر اس کے مناظر، احساسات اور یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ جب زندگی کی مصروفیات تھکا دیں گی تو یہی یادیں ہمیں دوبارہ ان پہاڑوں کی طرف لے جائیں گی۔ کیونکہ اصل میں سفر کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ صرف یادوں میں جاری رہتے ہیں۔

FAQ.

What is Mashabrum and why is it famous?
مشہ بروم قراقرم رینج کی ایک بلند چوٹی ہے جو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل ہے۔ یہ اپنی برف پوش چوٹی اور شاندار قدرتی مناظر کی وجہ سے کوہ پیماؤں اور سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔

What are Haldi Cones in Khaplu?
ہلدی کونز مخروطی شکل کے پہاڑی سلسلے ہیں جو خپلو کے قریب واقع ہیں۔ ان کی منفرد ساخت انہیں بلتستان کے دلچسپ قدرتی مناظر میں شامل کرتی ہے۔

What makes Soga Crystal Lake unique?
سوغا کرسٹل لیک اپنی انتہائی شفاف پانی کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کا پانی اتنا صاف ہوتا ہے کہ جھیل کی تہہ تک نظر آتی ہے اور سورج کی روشنی میں مختلف رنگ جھلملاتے دکھائی دیتے ہیں۔

Is Khaplu a good destination for travelers?
جی ہاں، خپلو بلتستان کا ایک تاریخی اور خوبصورت قصبہ ہے جہاں سیاح قدیم مساجد، قلعے، وادیاں اور قدرتی مناظر دیکھ سکتے ہیں۔

How many days are recommended to explore Khaplu properly?
خپلو کو مکمل طور پر دیکھنے کے لیے کم از کم دو سے تین دن درکار ہوتے ہیں تاکہ سیاح یہاں کے تاریخی مقامات اور قدرتی خوبصورتی کو سکون سے دیکھ سکیں۔

Leave a Comment