Explore Derawar Fort and Cholistan Desert in Pakistan through a real travel diary. Discover history, architecture, and travel tips for an unforgettable journey.
Derawar Fort Travel Guide & Cholistan Desert Journey
Derawar Fort is one of the most iconic تاریخی مقامات located in the heart of the Cholistan Desert near Bahawalpur. This travel diary shares a real journey filled with history, culture, and breathtaking desert landscapes.
یہ سفر صرف ایک ٹرپ نہیں بلکہ ایک یادگار تجربہ تھا جس میں تاریخ، صحرا کی خوبصورتی اور دوستوں کے ساتھ گزارے گئے لمحات شامل تھے۔

Early Morning Journey Towards Derawar Fort
صبح سویرے جب باقی سب لوگ ابھی خیموں میں سو رہے تھے، میں اور معارض اپنے کیمرے لے کر قلعہ دراوڑ کی طرف پیدل روانہ ہو گئے۔ عمارہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئی۔ راستے میں ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم رات کو دراوڑ سے کافی دور نکل آئے تھے، لیکن یہی چیز اس سفر کو مزید دلچسپ بنا رہی تھی۔
صبح کے وقت چولستان کا ماحول نہایت پرسکون اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ہلکی ہوا اور خاموشی میں دور تک پھیلے ریت کے میدان ایک الگ ہی سکون دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں پیدل سفر کرنا نہ صرف آسان ہوتا ہے بلکہ آپ کو قدرت کے قریب ہونے کا حقیقی احساس بھی ہوتا ہے۔ سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ ساتھ صحرا کا رنگ بدلنا ایک یادگار منظر ہوتا ہے جو ہر مسافر کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

Abbasia Royal Graveyard – History of Bahawalpur State
Historical Background
ریاست بہاولپور میں عباسی شاہی خاندان 1748ء میں اقتدار میں آیا۔ نواب محمد بہاول خان پہلے حکمران تھے جبکہ آخری حکمران نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ملک کی مالی مدد بھی کی جو تاریخ کا اہم حصہ ہے۔
Bahawalpur کی تاریخ میں عباسی خاندان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ خاندان نہ صرف حکمرانی بلکہ ثقافت، تعمیرات اور فلاحی کاموں میں بھی نمایاں رہا ہے۔ شاہی قبرستان میں دفن افراد اس خطے کی تاریخ کے اہم کردار رہے ہیں، اور یہ جگہ تاریخ کے شائقین کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہے جو ماضی کی جھلک پیش کرتی ہے۔
Visit to the Graveyard
قلعہ دراوڑ سے کچھ فاصلے پر عباسی شاہی قبرستان واقع ہے۔ ہم پہلے اسی جانب گئے، مگر چوکیدار کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے مرکزی مزارات کے اندر داخل نہ ہو سکے۔ یہ جگہ اب خستہ حال ہو چکی ہے مگر اس کی تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

Abbasi Mosque – A Beautiful Architectural Wonder
مزید آگے بڑھنے پر ہمیں تین سفید گنبدوں والی خوبصورت عباسی مسجد نظر آئی۔ یہ مسجد 1849ء میں نواب بہاول خان نے تعمیر کروائی تھی اور اس کا ڈیزائن دہلی کی موتی مسجد سے متاثر ہے۔ اس کا سادہ مگر دلکش انداز ہر دیکھنے والے کو متاثر کرتا ہے۔

یہ مسجد اپنی سادگی کے باوجود نہایت دلکش اور روحانی ماحول رکھتی ہے۔ سفید سنگ مرمر جیسے رنگ اور تین گنبدوں کی ترتیب اسے ایک منفرد شناخت دیتے ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح نہ صرف اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس کی خاموش فضا میں ایک روحانی سکون بھی محسوس کرتے ہیں جو شہر کی مصروف زندگی سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔

Exploring Derawar Fort
Structure & Architecture
قلعہ دراوڑ ایک بہت بڑا مربع شکل کا قلعہ ہے جس کے 40 بلند برج ہیں۔ یہ قلعہ چولستان کے صحرا میں داخل ہوتے ہی اپنی شان و شوکت سے توجہ حاصل کرتا ہے۔ اس کا صدر دروازہ مضبوط لوہے کا بنا ہوا ہے جس پر نوکدار کیلیں لگی ہوئی ہیں۔
Derawar Fort کے اندرونی حصے میں داخل ہونے پر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قلعہ کبھی ایک مکمل شہر کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں رہائش، دفاع اور حکومتی امور کے لیے مختلف حصے موجود تھے۔ قلعے کی مضبوط دیواریں اور بلند برج اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جگہ ماضی میں دفاعی لحاظ سے کتنی اہم رہی ہوگی۔

Historical Insights
کہا جاتا ہے کہ یہ قلعہ راجپوت راجہ رائے ججا بھٹی نے تعمیر کروایا تھا۔ بعد میں عباسی خاندان نے اسے اپنی ملکیت میں لے لیا اور آج تک یہ ان کے زیر انتظام ہے۔
Current Condition
بدقسمتی سے قلعہ دراوڑ کی حالت اب کافی خراب ہو چکی ہے۔ دیواریں اور کمرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاریخی ورثہ آہستہ آہستہ تباہ ہو رہا ہے۔
Desert Adventure – Cholistan Sand Dunes
جب ہم نے تمام تاریخی مقامات دیکھ لیے تو باقی دوست بھی ہمارے ساتھ آ ملے۔ ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے روہی کے ریتلے ٹیلوں کا رخ کیا۔ مقامی لوگوں نے ہمیں فیروزہ کے راستے ڈیزرٹ روڈ پر جانے کا مشورہ دیا جہاں ہمیں شاندار صحرائی مناظر دیکھنے کو ملے۔
Cholistan Desert کے ریتلے ٹیلے اپنی وسعت اور خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ یہاں سورج غروب ہونے کا منظر خاص طور پر دلکش ہوتا ہے جب سنہری روشنی ریت پر پڑ کر ایک جادوئی ماحول پیدا کرتی ہے۔ یہ جگہ فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے بھی بہترین ہے۔
Return Journey to Lahore
دراوڑ سے فیروزہ اور پھر ٹی چوک تک سفر کرنے کے بعد ہم نے واپسی کا رخ کیا۔ رات بھر کا سفر طے کر کے ہم صبح لاہور پہنچے اور ایک یادگار سفر کا اختتام ہوا۔
واپسی کا سفر اکثر تھکا دینے والا ہوتا ہے، مگر اس میں بھی ایک خاص سکون ہوتا ہے کیونکہ آپ ایک یادگار سفر مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ راستے میں گزرے ہوئے لمحات اور دیکھے گئے مناظر ذہن میں تازہ رہتے ہیں، اور یہی یادیں اس سفر کو ہمیشہ کے لیے خاص بنا دیتی ہیں۔

Travel Tips for Visiting Derawar Fort
- بہترین وقت: اکتوبر سے مارچ
- پانی اور کھانے کا انتظام خود کریں
- 4×4 گاڑی بہتر رہتی ہے
- مقامی گائیڈ سے مدد لینا فائدہ مند ہے
Derawar Fort کا سفر پلان کرتے وقت موسم اور راستے کی معلومات پہلے سے حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ موبائل نیٹ ورک اکثر کمزور ہوتا ہے، اس لی

Conclusion
یہ سفر Derawar Fort اور Cholistan Desert کی خوبصورتی، تاریخ اور ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا ایک یادگار موقع تھا۔ اس سفر نے ہمیں نہ صرف ماضی کی جھلک دکھائی بلکہ قدرت کے حسین مناظر سے بھی روشناس کروایا۔
چاہے وہ عباسی شاہی مسجد کی سادگی ہو، شاہی قبرستان کی تاریخی اہمیت یا قلعہ دراوڑ کی عظمت — ہر مقام اپنی ایک الگ کہانی سناتا ہے۔ اگر آپ پاکستان میں کسی منفرد اور تاریخی جگہ کی تلاش میں ہیں تو یہ علاقہ یقیناً آپ کی لسٹ میں ہونا چاہیے۔
یہ سفر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصل خوبصورتی صرف مشہور سیاحتی مقامات میں نہیں بلکہ ان جگہوں میں بھی ہوتی ہے جہاں تاریخ، ثقافت اور فطرت ایک ساتھ مل کر ایک مکمل تجربہ فراہم کرتی ہیں۔
FAQs.
Where is Derawar Fort located?
Derawar Fort پاکستان کے صوبہ پنجاب میں Bahawalpur کے قریب چولستان کے صحرا میں واقع ہے۔
What is the best time to visit Cholistan Desert?
چولستان کے صحرا کا بہترین وقت اکتوبر سے مارچ تک ہوتا ہے کیونکہ اس دوران موسم نسبتاً ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے۔
Is Derawar Fort open for tourists?
جی ہاں، قلعہ دراوڑ سیاحوں کے لیے کھلا ہوتا ہے، لیکن کچھ اندرونی حصوں تک رسائی محدود ہو سکتی ہے، خاص طور پر شاہی قبرستان کے مرکزی حصے میں۔
How can I reach Derawar Fort?
آپ Bahawalpur تک سڑک یا ریل کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں، اور وہاں سے جیپ یا 4×4 گاڑی کے ذریعے چولستان کے راستے قلعہ دراوڑ تک جا سکتے ہیں۔
What should I bring when visiting Cholistan Desert?
صحرا کے سفر کے دوران پانی، کھانا، سن بلاک، ٹوپی اور مناسب لباس ساتھ رکھنا ضروری ہے کیونکہ وہاں بنیادی سہولیات محدود ہوتی ہیں۔
Is it safe to travel to Cholistan Desert?
جی ہاں، اگر آپ مناسب پلاننگ اور مقامی گائیڈ کے ساتھ سفر کریں تو چولستان کا سفر محفوظ اور خوشگوار ہوتا ہے۔