Northern Pakistan Travel Diary – Basho Valley Adventure from Skardu Road (Part 6)
Chasing Dreams – Travel Diary Part 6
The journey through Northern Pakistan continues with another exciting chapter of our travel diary. After a refreshing break at Istak Nala, we resumed our adventure along the Skardu Road, heading deeper into the breathtaking landscapes of Baltistan. What began as a simple road journey soon turned into an unexpected adventure when we discovered the hidden route toward Basho Valley. From crossing a thrilling wooden bridge over the mighty Indus River to exploring villages surrounded by apricot orchards, this part of the journey reveals the raw beauty, culture, and spirit of thethe journey reveals the raw beauty, culture, and spirit of the Karakoram region.

The Spirit of Adventure and the Love of Travel
تازہ دم ہو کر ہم نے اپنا اگلا سفر شروع کیا۔ کہتے ہیں کہ منزلیں بہادروں کا استقبال کرتی ہیں جبکہ بزدلوں کو تو راستوں کا خوف ہی روک دیتا ہے۔ ہمیں ان دیکھی منزلوں کی جستجو ہے جو ہر خوف کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
یہ سفر صرف ایک تفریح نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، ایک عشق اور جنون ہے جو ہمیں وادی وادی اور گاؤں گاؤں لیے پھرتا ہے۔ فطرت کے حسن کی تلاش ہمیں اپنے آرام دہ کمروں سے نکال کر ان دشوار راستوں تک لے آتی ہے۔
شاید اسی جذبے نے تاریخ میں رانجھے کو تخت چھوڑنے پر مجبور کیا، سوہنی کو تیز لہروں میں اترنے کی ہمت دی، اور سسی کو صحراؤں میں بھٹکنے پر آمادہ کیا۔ جب انسان کے دل میں جستجو اور محبت ہو تو راستوں کی مشکلات بھی آسان لگنے لگتی ہیں۔
شمالی پاکستان کا سفر صرف راستوں کا سفر نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کے اندر موجود جستجو کو بھی جگا دیتا ہے۔ جب انسان پہاڑوں، وادیوں اور دریا کے درمیان سفر کرتا ہے تو اسے زندگی کا ایک نیا مطلب ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سیاح ہر سال بار بار شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
قدرتی حسن انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ صاف ہوا، بلند پہاڑ اور خاموش وادیاں انسان کے ذہن کو سکون دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سفر نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی تازگی بھی دیتے ہیں۔
Dambudas – A Small Town on the Skardu Road
استک نالہ کے بعد اگلا قابل ذکر مقام دمبوداس ہے۔ یہ سڑک کنارے واقع ایک نسبتاً بڑا قصبہ ہے جہاں بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔ مسافروں کے لیے یہاں چھوٹے بازار، دکانیں اور ریسٹ پوائنٹس موجود ہیں۔
یہاں سے ایک راستہ روندو ویلی کی طرف بھی جاتا ہے۔ ہم نے پہلے سوچا تھا کہ یہاں سے بلامک ویلی کا رخ کریں گے، جو ایک خوبصورت مگر مکمل جیپ ٹریک ہے۔ لیکن وہاں رہائش اور کھانے کی مناسب سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اور کیمپنگ سامان نہ ہونے کے باعث ہم نے یہ منصوبہ مؤخر کر دیا۔
یوں ہم نے دل میں اس خواب کو محفوظ رکھا اور دمبوداس سے آگے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔
دمبوداس سکردو روڈ پر واقع ایک اہم مقام ہے جہاں مسافروں کے لیے بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔ یہاں چھوٹی دکانیں، ہوٹل اور چائے کے اسٹال موجود ہیں جہاں مسافر آرام کر سکتے ہیں۔
یہ علاقہ روندو ویلی کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے جغرافیائی لحاظ سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے مقامی لوگ تجارت اور زراعت سے وابستہ ہیں جبکہ سیاحت بھی آہستہ آہستہ یہاں کی معیشت کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
یہاں سے گزرنے والے سیاح اکثر تھوڑی دیر رک کر اپنے سفر کے لیے ضروری سامان خرید لیتے ہیں اور پھر آگے کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔
Discovering the Basho Valley Point
دن کے تقریباً ڈھائی یا پونے تین بج رہے تھے کہ اچانک میری نظر سڑک کنارے ایک چھوٹے سے سائن بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا “Basho”۔
میں نے فوراً آواز دی: “سفیان! رکو رکو، باشو پوائنٹ آ گیا۔”
سڑک کنارے کئی فور بائی فور گاڑیاں سیاحوں کا انتظار کر رہی تھیں۔ ہم نے گاڑی سائیڈ پر کھڑی کی اور وہاں موجود منیجر سے بات کی۔ یہاں جیپیں اپنی باری کے حساب سے جاتی ہیں۔ اگر اسی دن واپس آنا ہو تو کرایہ تقریباً دس ہزار روپے ہوتا ہے جبکہ رات قیام کے لیے بارہ ہزار روپے تک ہو جاتا ہے۔
ہم نے مختصر مشورے کے بعد اپنی گاڑی پارک کی اور جیپ کے ذریعے اس مہم جوئی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔
باشو ویلی کا راستہ سکردو روڈ سے اچانک سامنے آ جاتا ہے اور بہت سے مسافر اس سائن بورڈ کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ یہ جگہ ابھی بھی زیادہ مشہور نہیں ہے۔
باشو ویلی اپنی قدرتی خوبصورتی، گھنے جنگلات اور صاف شفاف پانی کے چشموں کے لیے مشہور ہے۔ یہ وادی نسبتاً کم دریافت شدہ ہے جس کی وجہ سے یہاں کا ماحول اب بھی قدرتی حالت میں موجود ہے۔
یہاں آنے والے سیاح اکثر جیپ کے ذریعے اس وادی کی سیر کرتے ہیں کیونکہ عام گاڑیوں کے لیے یہ راستہ کافی مشکل ہے۔

Crossing the Wooden Bridge Over the Indus River
ہم نے جرسی، سویٹر اور جوگرز پہنے اور احتیاطاً چھتریوں والا بیگ بھی ساتھ لے لیا۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم رات وہاں رکیں گے یا واپس آ جائیں گے۔ اللہ کا نام لے کر ہم جیپ میں بیٹھ گئے۔
جیپ سڑک سے نیچے اتری اور تھوڑی ہی دور آگے دریائے سندھ کے کنارے پہنچ گئی۔ دریا پار کرنے کے لیے ایک لکڑی کا جھولتا ہوا پل تھا۔ اسے عبور کرتے ہوئے ہر مسافر کے دل میں ایک عجیب سا خوف اور جوش دونوں پیدا ہو جاتے ہیں۔
پل کے نیچے تیز بہتا ہوا دریا اور دونوں طرف سے گرنے والی آبشاریں منظر کو مزید حیرت انگیز بنا دیتی ہیں۔ ان آبشاروں والی چٹانوں کو یہاں Chocolate Rocks کہا جاتا ہے۔
دریائے سندھ شمالی پاکستان کی سب سے بڑی اور تاریخی دریاؤں میں سے ایک ہے۔ اس دریا نے ہزاروں سالوں سے یہاں کے علاقوں کو زندگی دی ہے۔
باشو کی طرف جانے والا لکڑی کا پل سیاحوں کے لیے ایک دلچسپ تجربہ ہوتا ہے۔ پل ہلکا سا جھولتا ہے اور نیچے تیز بہتا ہوا دریا نظر آتا ہے، جس سے ایڈونچر کا احساس اور بڑھ جاتا ہے۔
پل کے اردگرد گرنے والی آبشاریں اور چٹانیں اس جگہ کو ایک خوبصورت فوٹوگرافی پوائنٹ بنا دیتی ہیں۔

The Thrilling Jeep Track to Basho Valley
پل پار کرتے ہی جیپ ایک کچے اور بمپی ٹریک پر داخل ہو گئی۔ اب ہمارے سامنے ایک زبردست ایڈونچر تھا۔ راستہ خوبصورت بھی تھا اور خاصا مشکل بھی۔
جلد ہی ہمیں احساس ہو گیا کہ اس سفر میں ہماری ہڈی پسلی اپنی جگہ قائم رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ جیپ مسلسل پتھریلے راستوں اور موڑوں سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی، مگر چاروں طرف کے مناظر ہر مشکل کو بھلا دیتے تھے۔
باشو ویلی تک جانے والا جیپ ٹریک ایک حقیقی ایڈونچر ہے۔ یہ راستہ پتھریلا، تنگ اور بعض جگہوں پر کافی کھڑا بھی ہے۔
اسی وجہ سے صرف فور بائی فور گاڑیاں ہی یہاں آسانی سے سفر کر سکتی ہیں۔
یہ ٹریک گھنے جنگلات، پہاڑی ندیوں اور چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔ راستے میںک کئی جگہوں پر ایسے مناظر نظر آتے ہیں جو کسی فلمی منظر سے کم نہیں لگتے۔
سیاحوں کے لیے یہ سفر نہ صرف ایڈونچر بلکہ قدرت کے قریب ہونے کا ایک منفرد تجربہ بھی فراہم کرتا ہے۔

Apricot Orchards and Mountain Villages
راستے کے دونوں جانب خوبانیوں سے لدے درخت کھڑے تھے۔ کہیں کہیں درختوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے کھیت نظر آتے جہاں گندم اور آلو کی کاشت ہو رہی تھی۔
یہاں کا زرعی نظام بھی دلچسپ ہے۔ پنجاب میں جہاں گندم اپریل میں کاٹ لی جاتی ہے، وہیں ان پہاڑی علاقوں میں برف پگھلنے کے بعد فصل بوئی جاتی ہے۔ اس وجہ سے فصل کا وقت یہاں مختلف ہوتا ہے۔
یہ ٹریک گھنے جنگلات سے گزرتا ہے اور اس کے درمیان دس بارہ چھوٹے گاؤں موجود ہیں۔ ہر گاؤں میں چند گھر ہیں اور لوگ انتہائی سادہ اور پُرخلوص زندگی گزار رہے ہیں۔
باشو ویلی کے اردگرد کے علاقوں میں خوبانی کے درخت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ موسم گرما میں جب درختوں پر پھل لگتے ہیں تو پورا علاقہ خوبصورتی سے بھر جاتا ہے۔
یہاں کے لوگ زیادہ تر زراعت اور باغبانی سے وابستہ ہیں۔ خوبانی، آلو اور گندم یہاں کی اہم فصلیں ہیں۔ مقامی لوگ ان پھلوں کو خشک کر کے بھی محفوظ کرتے ہیں اور بازاروں میں فروخت کرتے ہیں۔
ان چھوٹے دیہاتوں میں زندگی سادہ ہے لیکن لوگوں کی مہمان نوازی بہت مشہور ہے۔ سیاحوں کو دیکھ کر مقامی لوگ مسکرا کر سلام کرتے ہیں اور خوش آمدید کہتے ہیں۔

A Pause in the Journey – Muharram Procession
تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ڈرائیور نے اچانک جیپ روک دی۔ ہمارے آگے بھی دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔ معلوم ہوا کہ آگے محرم کے سلسلے میں ایک جلوس گزر رہا ہے جس میں پورا علاقہ شریک ہے۔
راستہ اس وقت تک نہیں کھلے گا جب تک جلوس مکمل طور پر گزر نہ جائے۔ ہم پہلے جیپ میں بیٹھے رہے، پھر ڈرائیور ہمارے لیے تازہ اور رسیلی خوبانیاں لے آیا۔ یقین کریں اتنی میٹھی خوبانی ہم نے پہلے کبھی نہیں کھائی تھی۔
سفیان اور فاطمہ جلوس دیکھنے آگے چلے گئے اور ہم اردگرد کے مناظر کی فوٹوگرافی کرنے لگے۔ یہاں کے لوگ سیاحوں کو ٹورسٹ نہیں بلکہ مہمان سمجھتے ہیں اور یہی ان کی سب سے خوبصورت روایت ہے۔
شمالی پاکستان کے علاقوں میں مذہبی روایات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ محرم کے دنوں میں جلوس اور مجالس منعقد کی جاتی ہیں جن میں پورا علاقہ شریک ہوتا ہے۔
ایسے مواقع پر مسافروں کو بھی احترام کے ساتھ انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ مقامی ثقافت اور عقیدت کا حصہ ہوتا ہے۔ اس دوران سیاحوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ مقامی لوگوں سے بات چیت کریں اور ان کی زندگی کو قریب سے دیکھ سکیں۔
یہ لمحے سفر کو صرف ایک سیاحتی تجربہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی تجربہ بھی بنا دیتے ہیں۔
Conclusion
The journey toward Basho Valley turned out to be one of the most unexpected and exciting adventures of our Northern Pakistan travel diary. From the small town of Dambudas to the hidden Basho point, every moment of the trip was filled with curiosity and discovery. Crossing the wooden bridge over the mighty Indus River, traveling on the thrilling jeep track, and witnessing the peaceful mountain villages made the experience truly unforgettable.
The natural beauty of apricot orchards, green fields, and towering mountains reminds every traveler why Northern Pakistan is considered one of the most breathtaking regions in the world. At the same time, the warmth and hospitality of the local people add a special charm to the journey.
Although the road occasionally paused because of local events like the Muharram procession, these moments allowed us to observe the culture and traditions of the region more closely. Such experiences make travel more meaningful than simply reaching a destination.
Our adventure toward Basho Valley is still unfolding, and the mountains continue to surprise us with their hidden beauty. The journey continues, and many more unforgettable moments await in the next part of this travel diary.
FAQ
Where is Basho Valley located?
Basho Valley is located in the Skardu region of Gilgit-Baltistan, Pakistan. It is accessible from Skardu Road near Dambudas and is known for its forests, rivers, and scenic landscapes.
How can travelers reach Basho Valley?
Travelers usually reach Basho Valley by hiring a 4×4 jeep from the Basho point on Skardu Road. The road is rough and not suitable for normal cars.
What is Basho Valley famous for?
Basho Valley is famous for its lush green forests, wooden bridges, mountain streams, and peaceful villages. It is also known for its natural beauty and less crowded environment compared to other tourist destinations.
Is Basho Valley suitable for family travel?
Yes, families can visit Basho Valley, but it is recommended to travel with experienced local drivers because the jeep track is rough and adventurous.
What crops and fruits grow in Basho Valley?
The region is known for apricot orchards, wheat fields, and potato farming. Fresh apricots from this area are particularly famous for their sweet taste.
What is the best time to visit Basho Valley?
The best time to visit Basho Valley is from May to September when the weather is pleasant and the roads are accessible for travel.