Lost Pond of Rawalpindi – Story of Banni Market

Lost Pond of Rawalpindi – Story of Banni Market

Explore the forgotten pond of Rawalpindi, Mai Viro Ka Ban, its history, Hindu heritage, transformation into Banni Market, and hidden local stories.

Old historic pond of Rawalpindi transforming into modern Banni Market
Lost Pond of Rawalpindi – From Mai Viro Ka Ban to Banni Market

Introduction

Rawalpindi is full of forgotten places and hidden stories, and the story of Lost Pond of Rawalpindi is one of the most fascinating among them. Long before the busy Banni Market existed, this area was known as Mai Viro Ka Ban, a historic pond used for religious bathing by the Hindu community.

The Lost Pond of Rawalpindi was once surrounded by stairs, flowing freshwater, and local gatherings. According to old residents, the pond remained active until the mid-20th century before urban expansion slowly erased its identity. Over time, the pond disappeared and the famous Banni Market emerged in its place.

Today, very few people know that the crowded Banni Bazaar once held the Lost Pond of Rawalpindi, connected with old traditions, fairs, and cultural memories. This forgotten landmark reflects the changing history of Rawalpindi and the transformation of the city over generations.

History of Mai Viro Ka Ban Lost Pond of Rawalpindi (Mai Viro Ka Ban) – Overview

Section Details
Historical Name Mai Viro Ka Ban (later known as Banni)
Location Present-day Banni Market, Rawalpindi
Founder A Hindu woman known as Mai Viro
Purpose Religious bathing (Ashnaan) for Hindu community
Time Period Existed before 1947, possibly until 1960s–70s
Depth of Pond Reported between 20–30 feet or up to 100–150 feet (different claims)
Structure Stone steps on all four sides for access to water
Water Source Natural stream from Margalla Hills via Saddar Road canal
Water Flow System Continuous inflow and outflow for fresh water circulation
Maintenance Periodic cleaning and water replacement (as per local accounts)
Decline Reasons Partition of 1947, population shift, blocked water supply, urbanization
Transformation Gradually turned into landfill → then developed into market
Modern Identity Banni Market (mobile shops, bridal items, rentals)
1990s Era Famous for VCR rentals and Indian movies availability
Unique Feature Today Rental bedding and charpoy services for events & weddings
Nearby Landmark Historic building dated 1933 still present

History of Mai Viro Ka Ban

Who Was Mai Viro?

مقامی روایات کے مطابق مائی ویرو ایک بزرگ ہندو خاتون تھیں جنہوں نے اس تالاب کو بنوایا تھا۔ ان کے شوہر کے انتقال کے بعد وہ اکیلی رہ گئی تھیں اور ان کی کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ انہوں نے یہ تالاب ہندو مذہبی اشنان کے لیے مخصوص کیا۔

یہ تالاب صرف نہانے کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا بھی مرکز تھا۔ اس زمانے میں گھروں میں غسل خانے موجود نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگ اجتماعی اشنان گاہوں کا استعمال کرتے تھے۔

Important Facts About Mai Viro

  • مائی ویرو ایک ہندو خاتون تھیں
  • تالاب مذہبی اشنان کے لیے بنایا گیا
  • یہ جگہ مقامی لوگوں کے لیے اہم مرکز تھی
  • تالاب تقسیم سے پہلے تک موجود رہا

Why It Was Called “Ban”

مقامی زبان میں “بن” کا مطلب تالاب یا پانی جمع ہونے کی جگہ بتایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس مقام کو “مائی ویرو کا بن” کہا جانے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی لفظ بدل کر “بنی” بن گیا۔

کچھ لوگوں کے مطابق تالاب کے اردگرد چھوٹی چھوٹی بیٹھکیں یا بنیاں بنی ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے بعد میں یہ علاقہ “بنی مارکیٹ” کہلانے لگا۔

Reasons Behind The Name

  1. “بن” کا مطلب تالاب تھا
  2. تالاب کے اردگرد بیٹھنے کی جگہیں موجود تھیں
  3. وقت کے ساتھ لفظ “بن” سے “بنی” بن گیا
  4. نام آج تک تاریخی شناخت رکھتا ہے

Structure and Water System of the Pond

Depth and Design of the Pond

لوگوں کے مطابق یہ تالاب کافی گہرا تھا۔ بعض افراد اس کی گہرائی سو سے ڈیڑھ سو فٹ بتاتے ہیں جبکہ کچھ کے مطابق یہ تقریباً بیس سے تیس فٹ گہرا تھا۔ تالاب کے چاروں طرف سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔

لوگ سیڑھیوں کے ذریعے نیچے اترتے اور وہاں اشنان کیا کرتے تھے۔ تالاب کا ڈیزائن اس دور کے حساب سے بہت منظم سمجھا جاتا تھا۔

Features of the Pond

  • چاروں طرف پتھریلی سیڑھیاں
  • گہرا پانی
  • اشنان کے لیے مخصوص جگہ
  • باقاعدہ صفائی کا انتظام

Water Supply System

اس تالاب میں پانی مارگلہ کی پہاڑیوں کی طرف سے آنے والے نالے کے ذریعے پہنچتا تھا۔ یہ نالہ سید پور روڈ کے قریب سے گزرتا تھا اور تالاب میں تازہ پانی لاتا تھا۔

پانی ایک طرف سے تالاب میں داخل ہوتا اور دوسری طرف سے نکل جاتا تھا، جس کی وجہ سے پانی صاف اور رواں رہتا تھا۔ بعض روایات کے مطابق چند دن بعد تالاب کی صفائی بھی کی جاتی تھی۔

Water Management Highlights

  1. پانی مارگلہ پہاڑیوں سے آتا تھا
  2. نالہ سید پور روڈ سے گزرتا تھا
  3. پانی مسلسل بہاؤ میں رہتا تھا
  4. تالاب کی صفائی کی جاتی تھی

Transformation Into Banni Market

How The Pond Disappeared

1947 کی تقسیم کے بعد علاقے کی آبادی اور ماحول تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ ہندو آبادی کے جانے کے بعد تالاب کی اہمیت کم ہو گئی اور پانی کی آمد بھی آہستہ آہستہ بند ہو گئی۔

بعد میں تالاب میں کیچڑ جمع ہونے لگا اور لوگوں نے وہاں کچرا پھینکنا شروع کر دیا۔ آخرکار حکومت نے اس جگہ کو بند کر کے مارکیٹ میں تبدیل کر دیا۔

Reasons Behind The Closure

  • ہندو آبادی کی ہجرت
  • پانی کی سپلائی بند ہونا
  • کیچڑ اور گندگی جمع ہونا
  • شہری آبادی میں اضافہ

Banni Market in the 1990s

نوے کی دہائی میں بنی مارکیٹ وی سی آر اور بھارتی فلموں کے لیے مشہور ہوا کرتی تھی۔ اس دور میں پورے راولپنڈی میں اگر کہیں بھارتی فلمیں دستیاب ہوتی تھیں تو وہ یہی علاقہ تھا۔

وقت کے ساتھ یہ مارکیٹ موبائل فونز، شادی بیاہ کے سامان، مہندی، سہرے اور دیگر کاروبار کا اہم مرکز بن گئی۔

Famous Things in Banni Market

  1. وی سی آر کرائے پر ملتے تھے
  2. بھارتی فلمیں دستیاب تھیں
  3. شادی بیاہ کی خریداری کا مرکز
  4. موبائل مارکیٹ میں تبدیلی

Hidden Stories and Local Culture

Historical Buildings and Old Memories

بنی مارکیٹ کے سامنے آج بھی 1933 کی ایک تاریخی عمارت موجود ہے جو تقسیمِ ہند سے پہلے کی یادگار ہے۔ اس عمارت پر آج بھی 1933 درج ہے۔

اس علاقے کے قریب جنگلات روڈ بھی موجود ہے جہاں کبھی محکمہ جنگلات کا دفتر اور گھنے جنگلات ہوا کرتے تھے۔

Historic Elements of the Area

  • 1933 کی پرانی عمارت
  • جنگلات روڈ
  • پرانا سرکاری دفتر
  • تقسیم سے پہلے کی نشانیاں

Unique Rental Bedding Culture

بنی مارکیٹ کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ یہاں چارپائیاں اور بستر کرائے پر دستیاب ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ یا مہمانوں کی صورت میں لوگ یہاں سے بستر کرائے پر لے جاتے ہیں۔

یہ روایت پنجاب کے دیگر شہروں میں کم دیکھنے کو ملتی ہے، اسی لیے یہ چیز بنی مارکیٹ کی الگ شناخت سمجھی جاتی ہے۔

Interesting Local Traditions

  1. چارپائیاں کرائے پر ملتی ہیں
  2. صاف ستھرے بستر دستیاب ہوتے ہیں
  3. شادی بیاہ میں استعمال کیے جاتے ہیں
  4. یہ روایت آج بھی موجود ہے

Conclusion

The story of the Lost Pond of Rawalpindi is more than just the history of a vanished water reservoir. It reflects the cultural, religious, and social transformation of Rawalpindi over the last two centuries. From Mai Viro Ka Ban to the modern Banni Market, this place has witnessed changing communities, urban growth, and the fading of old traditions.

Although the pond no longer exists, its memories still survive in local stories, old buildings, and the name of Banni itself. Today’s crowded market once held flowing water, stone steps, and religious gatherings that connected people with their daily lives and beliefs.

Exploring such forgotten places helps preserve the hidden heritage of Pakistan and reminds us how cities evolve over time. The Lost Pond of Rawalpindi remains an important part of the city’s untold history and cultural identity.

FAQs.

What was the Lost Pond of Rawalpindi?

یہ ایک قدیم تالاب تھا جو مائی ویرو نے ہندو مذہبی اشنان کے لیے بنایا تھا اور آج کے بنی مارکیٹ کے مقام پر موجود تھا۔

Where was Mai Viro Ka Ban located?

یہ موجودہ بنی مارکیٹ، راولپنڈی کے علاقے میں واقع تھا۔

Who was Mai Viro?

مائی ویرو ایک بزرگ ہندو خاتون تھیں جنہوں نے یہ تالاب مذہبی استعمال کے لیے بنایا تھا۔

Why was this pond important?

یہ تالاب ہندو کمیونٹی کے لیے اشنان اور مذہبی رسومات کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

How deep was the pond?

مختلف روایات کے مطابق اس کی گہرائی 20 سے 30 فٹ یا بعض کے مطابق 100 سے 150 فٹ تک تھی۔

How was the water supplied to the pond?

پانی مارگلہ پہاڑیوں سے آنے والے نالے کے ذریعے تالاب میں آتا تھا اور مسلسل بہاؤ میں رہتا تھا۔

Why did the pond disappear?

1947 کی تقسیم کے بعد آبادی بدل گئی، پانی کی سپلائی بند ہوئی اور آہستہ آہستہ یہ تالاب ختم ہو گیا۔

What is present at this location today?

آج یہاں بنی مارکیٹ موجود ہے جہاں دکانیں، موبائل مارکیٹ اور کاروباری سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

What was Banni Market famous for in the past?

نوے کی دہائی میں یہ وی سی آر اور بھارتی فلموں کے کرایے کے لیے مشہور تھا۔

What is a unique feature of Banni Market today?

یہاں آج بھی چارپائیاں اور بستر کرائے پر دستیاب ہوتے ہیں، جو شادی بیاہ اور مہمانوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

Leave a Comment